What is the distance between heaven and hell Story

What is the distance between heaven and hell is a heart-wrenching story of two madrassah children, observed by me during a photo tour in the rural areas of Sindh, Pakistan.

I got special permission from Molvi, a highly qualified Religious scholar or caretaker of Madrassah, for taking photographs of Talibs, an Arabic word for the student. He gladly agreed but on the condition that I will not take photos of the girls who are in the age group of 12+.

After getting permission from Maulvi Sahib, I leaned against the wall and sat down to observe the students to see if there was a good picture.

I was just sitting when two poor children came and sat near me. One was holding one-fourth of bread (Chapati).

The moment they sat, I clicked a photo. In my opinion, it’s impossible and uncertain for two students of the same class to sit together and remain silent. So they started whispering due to the Molvi Sahab. I have never heard such a heart-wrenching conversation between children of their age group. Their painful talk pulled me out of the imaginary world of images into the real world. Now just listen to these students.

First child: Why are you so late? The Moulvi Sahab was getting angry.

Second child: I was waiting for breakfast.

First child: So you ate? And why did you bring this bread to the mosque?

So the other child replied innocently,  Mother said that right now take this piece of bread, go to the mosque quickly and ate there. You will have your full meal at your lunch after coming back from school.

Madrassa children usually have a holiday until 11 a.m. This means that the child had to stay on that piece of bread from dinner to noon.

Second child: No, that’s all I have. He showed a piece of bread in his hand and placed it on his thigh.

First child: Well, give me a bit of it, I’m very hungry too.

Second child: Didn’t you eat too?

First child: Yes, too much hungry right now. Even letters are blurry due to hunger.

Second child: Well, I divide it equally. 

Now both were enjoying half of one fourth with a chuckle to each other. 

See also  Race with Sunset

That is why I remembered the poem of Khwaja Ghulam Farid (one of the mystical poets of Saraiki Language)

Translation: There are five pillars of Islam and the sixth one is Meal. If you are hungry, then you will not give attention to any pillar of Religion. 

After a while, Maulvi Sahib, who was sitting in the middle of students in a circular, started telling about heaven and hell. These two pay attention to the moulvi sahab topic as well. Now, their subject of conversation changed from hunger to heaven and hell.

The first child asks: How do heaven and hell differ?

The reply of the second kid, who had brought the bread, was very innocent and unanswerable. The second kid said that his mother always told him that there is plenty of bread and butter in heaven, too. He said that you don’t have to wait for food in heaven; everyone gets served right away. But in hell, people are starving and thirsty; they die of hunger and thirst.

The first one asked another question. “When will we go to heaven?” “Heaven is far, far away,” the other said. “Only when we die will we go to heaven.” He stretched his arms wide to understand how large and distant heaven was.

Then the same child who had brought a piece of bread with him asked: “When will we die?” The second child answered, “I don’t know” Suddenly, Maulvi Sahib’s loud voice echoed: “Stop talking! And pay attention to reading. Read!” And then they started reading the alphabet aloud.

Someone asked a wise man … What is the distance between heaven and hell?

A wise man was once asked about the distance between heaven and hell. After a long silence, he uttered a heartbreaking phrase: As much as hunger and hunger.

Hunger and fell fed!

میں نے مولوی صاحب سے مدرسے کے طالب علموں کے تصویریں بنانے کے لئے خصوصی اجازت مانگی تو انہوں نے خوشی سے اجازت دے دی۔ ساتھ میں یہ بھی شرط رکھی کہ چھوٹے بچے اور بچیوں کی تصاویر لے سکتے ہیں مگر بڑی طلباء کی تصاویر نہ لیجئے گا۔

مولوی صاحب کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد میں  دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور طلباء کو جانچنے لگا کہ کہیں سے کوئی ایک آدھ اچھی تصویر بن جائے۔

See also  Race with Sunset

مجھے بیٹھے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ میرے قریب دو بچے آکر بیٹھے۔ اور آپس میں بات چیت کرنے لگے.

وہ بچا جیسے ہی بیٹھا تو میں نے فوراً ایک تصویر کھینچ لی۔ میری رائے میں ، ایک ہی کلاس کے دو طلبا کے ساتھ بیٹھنا اور خاموش رہنا ناممکن اور غیر یقینی ہے۔ تو بیٹھتے ساتھ ہی وہ دوںوں آپس میں مولوی صاحب کے ڈر کی وجہ سے کھسر پھسر کرنے لگے۔ میں نے ان کی عمر کے بچوں کے مابین اس طرح کی دل دہلانے والی گفتگو کبھی نہیں سنی۔ ان کی تکلیف دہ گفتگو نے مجھے تصویروں کے تصورراتی دنیا سے باہر نکال کر حقیقی دنیا میں داخل ہونے پر مجبور کر دیا۔ اب ذرا ان طلباء کی گفتگو سنتے ہیں۔ 

پہلا بچہ : تم دیر سے کیوں آئے ہو؟ استاد ناراض ہو رہا تھا۔

دوسرا بچہ : میں ناشتہ کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔

پہلا بچہ : تو پھر تم نے کھانا کھایا؟ اور یہ روٹی مسجد میں کیوں لائے ہو؟

تو دوسرے بچے نے معصومیت سے جواب دیا کہ ۔۔۔ امی کہتی ہیں کہ فی الحال یہ تھوڑی سی روٹی لو،  جلدی سے مسجد جاؤ اور وہیں جا کر کھا لینا۔۔۔۔مسجد سے چھٹی کے بعد جب آئو گے تو کھانا کھا لینا۔

عموماً مدرسے کے بچوں کو ۱۱ بجے تک چھٹی ہو جاتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ رات کے کھانے سے لیکر دوپہر تک اس بچے نے اسی ٹکڑے پر ہی رہنا تھا۔ 

دوسرا بچہ : نہیں، میرے حصے میں بس اتنا ہی آیا ہے؟ اس نے اپنے ہاتھ میں باسی روٹی کا ٹکڑا دکھایا اور اسی کو اپنی ران پر رکھ دیا۔

پہلا بچہ : اچھا اس میں تھوڑی سے مجھے دے  دینا، مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے۔

دوسرا بچہ: کیا تم نے بھی کھانا نہیں کھایا؟

پہلا بچہ: ہاں، بہت بھوک لگی ہے اور بھوک میں حروف بھی نظر نہیں آ رہے.

دوسرا بچہ:  اچھا یہ آدھی روٹی میں لے لیتا ہوں اور آدھی تم لے لو۔

اب دونوں چوتھائی کا آدھا حصہ کھانے کے ساتھ ساتھ پڑھ بھی رہے تھے

See also  Race with Sunset

اسی بات مجھے خواجہ غلام فرید کا شعر یاد آگیا کہ: 

پنج رُکن اسلام دے ، تے چھیواں فریدا ٹُک

جے لبھے نہ چھیواں، تے پنجے ای جاندے مُک

اردُو ترجمہ: اسلام کے پانچ رُکن بیان کئے جاتے ہیں۔ لیکن اے فرید ! ایک چھٹا رُکن بھی ہے اور وہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ’’ روٹی ‘‘ اگر یہ چھٹا نہ مِلے، تو باقی پانچوں بھی جاتے رہتے ہیں۔

تھوڑی دیر بعد بچوں کی جھرمٹ میں بیٹھے مولوی صاحب کسی بچے کو جنت اور دوزخ کے بارے میں بتانے لگے تو وہ بات ان بچوں نے بھی سن لی. اب ان کی گفتگو کا موضوع بھی تبدیل ہوگیا۔ 

پہلا بچہ پوچھتا ہے کہ، یہ جنت اور دوزخ کیا ہے؟

 دوسرا بچا جو روٹی کا ٹکڑا ساتھ لایا تھا۔۔۔اس کا جواب بے حد معصومانہ اور لاجواب کر دینے والا تھا. اس بچے نے جواب دیا کہ ۔۔۔۔ امی کہتی ہیں کہ۔۔۔۔میرے لعل  جنت میں بہت روٹی ہے کھانا ہے، پینا ہے ۔۔۔ اور تو اور وہاں کھانے کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا۔۔۔۔ جب کہ دوزخ میں غربت ہے، بھوک ہے پیاس ہے اور وہاں اتنی بھوک ہے کہ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔

پہلے بچے نے ایک اور سوال کیا کہ۔۔۔۔ ہم جنت میں کب جائیں گے؟ 

دوسرے بچے نے کہا کہ ۔۔۔۔  جنت بہت دور ہے بہت بہت دور ہے ۔۔۔۔ جب ہم مریں گے نا تب ہی ہم جنت میں جائیں گے۔ 

وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو بہت زیادہ پھیلا کر جنت کا حجم اور فاصلہ سمجھا رہا تھا۔ 

پھر وہی بچہ جو روٹی کا ٹکڑا اپنے ساتھ لایا تھا خود ہی سوال کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔ پھر  ہم کب مریں گے؟

پتا نہیں۔۔۔۔   دوسرے بچے کے جواب کے بعد مولوی صاحب کی زوردار آواز گونجی کہ ” کیا باتیں کر رہے ہو پڑھنے پر دھیان دو” اور پھر وہ زور زور سے الف با تا ثا پڑہنے لگے۔

ایک دانا شخص سے کسی نے پوچھا کہ ۔۔۔ جنت اور دوزخ کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔

دانا شخص نے ایک طویل خاموشی کے بعد ایک دلخراش فقرہ کہا کہ ۔۔۔ 

بھوک اور پیٹ بھر کر کھانے جتنا